گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے یہاں سب کے مقدر میں فقط زخم جدائی ہے سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصال یار کے قصے بھلا عشق و محبت سے کسی کا پہٹ بھرتا ہے سنو، تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے Read more about گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے[…]

عشق کی نماز جنازہ

نہ وہ سوز ہے نہ وہ ساز ہے یہ عجب فریبِ نیاز ہےسرِ نازِ حُسن بھی خم ہوا نہ اب عشق وقفِ نیاز ہےگیا حُسن یوں بُتِ ناز کا کہ نشاں بھی باقی نہیں رہاپڑھو دوستو میرے عشق پر کہ جنازہ کی یہ نماز ہے۔(حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم )